“بچے اور نوجوان کھیل کیوں پسند کرتے ہیں – قرآن و حدیث کی روشنی میں”
آج کے دور میں بچے اور نوجوان گیمز کھیلنے کو نہ صرف تفریح سمجھتے ہیں بلکہ اسے ایک ایسی دنیا تصور کرتے ہیں جہاں وہ اپنے خیالات، مہارتوں اور جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ گیمز ذہن کو مصروف رکھتے ہیں، تخلیقی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں، اور ٹیم ورک یا مقابلے کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ نوجوان طبقہ خاص طور پر آن لائن گیمز کے ذریعے دوستی، مقابلہ اور کامیابی کا احساس حاصل کرتا ہے۔
لیکن ساتھ ہی ضروری ہے کہ ہم ان کھیلوں کو حدود میں رکھیں اور ان میں اعتدال اپنائیں۔

:قرآن مجید میں ارشاد ہے
“اور کھیل اور تماشے میں نہ پڑو، اصل کامیابی اللہ کی یاد اور آخرت کی تیاری میں ہے” (الأنعام: 70)”
:حضور ﷺ نے فرمایا
“تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔” (بخاری)
یاد رکھو، جو رب پتھروں سے پانی نکال سکتا ہے، وہی تمہارے لیے وسلے بنا سکتا ہے، وہی تمہاری مصیبتیں دور کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ہر شے پر قادر ہے، وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔
اس لیے گیمز کھیلنا اگرچہ جائز ہے، لیکن توازن، نیت اور وقت کی قدر کے ساتھ، دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
Recent posts
- Pakistan Has the Highest Telecom Taxes in the Region, Says ADB Report!
- Court Delivers Key Verdict on Citizen Accused of Using Inappropriate Words Against CM
- Saudi Arabia Lifts Mahram Requirement for Women Pilgrims
- Italy’s Cricket Team in T20 World Cup for the First Time!
- Dubai Filipino Citizen Wins 8.5 Million Rupees in Prize Lottery







